منگلورو:20/جولائی (ایس اؤنیوز)ریاست کرناٹکا کے مختلف معاملات کو لے کر زندوں کو مردہ درج کرکے مرکزی وزیر داخلہ کو خط لکھنے والی ایم پی شوبھا کرندلاجے ، اپنی حماقت سے باز آکر فوری طورپر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا ودھان پریشد کے چیف وھیپ آئیون ڈیسوزا نے پریس کانفرنس کے ذریعے مطالبہ کیا ہے۔
ایک ذمہ دارانہ عہدے پر فائز رہنےوالی رکن پارلیمان فرقہ وارانہ طورپر شدید حساس معاملات میں مرکز کو غلط جانکاری والی رپورٹ دیتے ہوئے بہت ہی غیر ذمہ دارانہ حرکت کی ہے، اور حکومت کے اہم شعبہ وزارت داخلہ کو غلط رخ پر لے جانے کا کام کیا ہے ، این آئی اے کے ذریعے جانچ کا مطالبہ کرنے والی ایم پی معاملے کی جانچ کو غلط رخ دینے کی کوشش کررہی ہیں، ان کی طرف سے سونپی گئی فہرست میں اشرف اور ونایک بالیگا جیسے کئی قتل معاملات کو جان بوجھ کر چھوڑا گیا ہے۔ اس طرح کی تفرقہ بازی کرتے ہوئے رکن پارلیمان نے دستور مخالف رویہ اختیار کیا ہے۔ ریاستی اور ملکی عوام کے وقار کو ٹھیس پہنچایا ہے،فرقہ وارانہ حساس معاملات میں زندوں کو مردہ بتاکر ایم پی نے ووٹ بینک کی سیاست کرتے ہوئے سماج کو تقسیم کرنے کا کام کررہی ہیں، ان سب وجوہات کی بنا پر رکن پارلیمان اپنے عہدے پر فائز رہنے کا حق کھو نے کا آئیون ڈیسوزا نے خیال ظاہرکیا۔
اغواء کاری معاملے کے ملزم اپنے ذاتی معاون سنتوش کی تلاش میں پولس سرگرداں ہے ، اس دوران اس کی حفاظت کے لئے پولس افسران کو خطوط لکھتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ ، بی جے پی کے ریاستی صدر یڈیورپا پولس محکمہ پر دباؤ کے ذریعے اپنے اثرات ڈالنے کی کوشش کرنے کا آئیون ڈیسوزا نے الزام لگایا۔ اس موقع پر آئیون ڈیسوزا نے اپنے تین سالہ رکن اسمبلی کے طورپر کئے گئے کاموں کی تفصیل والے کتابچہ کا ضلع کانگریس صدر ہریش کمار نے اجراء کیا۔ پریس کانفرنس میں ضلع کانگریس صدر ہریش کمار، ضلع پنچایت ممبر ممتا گٹی ، منگلورو مہا نگر پالیکا کے نائب مئیر رجنیش، کرناٹکا کاجو بورڈ کے صدر یو ایچ قادر اور دیگر کانگریسی لیڈران موجود تھے۔